44

ملکی تاریخ میں پہلی بار سویلین حکومت میں سینیٹ غیر فعال

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ غیر فعال ہوگئی ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اورڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی کے ریٹائر ہونے کے بعد اسپیکر پیٹرن نہ ہونے کے باعث سینیٹ کا کوئی سربراہ نہیں رہا سینیٹ سیکریٹریٹ کے رولز میں ترمیم سے متعلق تجویزپرسیاسی جماعتوں میں اتفاق نہ ہوسکا تھا اور پارلیمانی لیڈرکمیٹی میں اتفاق کےباوجودرولزمیں ترامیم نہ ہوسکی تھی 2018 میں منتخب ہونے والے سینیٹ کے 52 ارکان مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوگئے ، جن میں مسلم لیگ ن کے12، پیپلز پارٹی 12 اورپی ٹی آئی کے 8 ، جے یو آئی ف، پی کے میپ اور نیشنل پارٹی کے 2،2 سینیٹر ریٹائرڈ شامل ہیں اس کے علاوہ بی اے پی 6، جماعت اسلامی، ایم کیوایم اور فنکشنل لیگ کا1،1سینیٹرریٹائرڈ ہوا جبکہ سابقہ فاٹا کے 4 سینیٹرزبھی ریٹائرڈ ہوگئے اسلام آباد سے 2 سینیٹر اسد جونیجو اور مشاہد حسین سید بھی ریٹائرڈ ہوئے جبکہ سندھ اورپنجاب کے12،12 سینٹرز اور خیبر پختوانخوا اور بلوچستان کے 11،11 سینیٹرز ریٹائرڈ ہوگئے سینیٹراسحاق ڈار،رضاربانی،مولابخش چانڈیو،فروغ نسیم ،مظفرشاہ ، شہزادوسیم،مصدق ملک،آصف کرمانی،ولیداقبال،حافظ عبدالکریم،سیمی ایزدی ، فیصل جاوید،پیرصابرشاہ،طلحہ محمود،مشتاق احمد،دلاورخان،اعظم سواتی،روبینہ خالد بھی ریٹائرڈ ہونے والوں میں شامل ہیں انوارالحق کاکڑاورشوکت ترین کی نشست استعفے کے باعث پہلےہی خالی ہیں جبکہ احمدخان،کہدہ بابر،شفیق ترین، طاہربزنجو، نصیب اللہ بازئی ، مرزا آفریدی، ہدایت اللہ خان، ہلال الرحمان اور شمیم آفریدی بھی ریٹائرڈ ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں