66

مریم نواز پاکستان اور پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب

تفصیلات کے مطابق اسپیکر ملک احمد خان کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ن لیگ کی جانب سے مریم نواز اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے رانا آفتاب مدمقابل تھےسنی اتحاد کونسل نے راناآفتاب کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر واک آؤٹ کردیا ، جس کے بعد اسپیکر نے سنی اتحاد کونسل ارکان کے بغیر ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا عمل شروع کرایا پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کے چناؤ کے لئے ووٹنگ مکمل کی گئی، مریم نواز سمیت لیگی اتحاد نے ووٹ کاسٹ کئے تاہم سنی اتحاد کونسل نے ووٹنگ کے عمل کا مکمل بائیکاٹ کیااسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمدخان نے ووٹوں کی گنتی کے بعد اعلان کیا کہ مریم نواز پاکستان اور پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہوگئیں ہیں ، مریم نواز کو 220 ووٹ ملے جبکہ آفتاب احمدخان نےصفر ووٹ حاصل کئے ملک احمدخان کا کہنا تھا کہ رولزپروسیجر 1997کےمطابق مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کیاجاتاہے، درخواست ہے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لیڈر آف ہاؤس کی سیٹ پر تشریف لائیں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مریم نواز کو وزیراعلیٰ منتخب ہونے پرمبارکبادپیش کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کو اظہارخیال کی دعوت دیتاہوں اجلاس میں لیگی اتحاد کے تمام ارکان ایوان کے باہر لابی میں موجود تھے، اس دوران ایوان کے اندر نواز شریف کے حق نعرے بازی جاری رہی، ووٹنگ کیلئےایوان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، پہلے مرحلے میں نومنتخب خواتین ارکان نے ووٹ ڈالا مریم نواز کو ووٹ دینے والے اسپیکر کی دائیں جانب حاضری لگوانے کے بعدلابی میں گئے جبکہ راناآفتاب کوووٹ دینےوالوں کیلئےاسپیکرکےبائیں جانب کی لابی مختص کی گئی ہے یاد رہے سنی اتحاد کونسل نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا تھا، راناآفتاب کوپوائنٹ آف آرڈرپربات کرنے کی اجازت نہ ملنےپرسنی اتحاد کونسل کے ارکان نے احتجاج کیا اور شورشرابے کے بعد انتخابی عمل کابائیکاٹ کیا کمیٹی ارکان سنی اتحاد کونسل کے ارکان کو مناکر ایوان میں لائے تاہم کچھ دیر بعد سنی اتحاد کونسل پھر واک آؤٹ کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں