پسند کی شادی کے لیے گھر سے نکلے لڑکا لڑکی دریا میں ڈوب گئے۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ضلع مظفر گڑھ میں دونوں لڑکا لڑکی پسند کی شادی کی غرض سے گھر سے نکلے تھے تاہم دریائے سندھ پار کرتے ہوئے ڈوب گئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں دو روز قبل لڑکا لڑکی پسند کی شادی کرنے گھر سے نکلے تھے دونوں دریا پار کرتے ہوئے ڈوب گئے تاہم لڑکا اپنی مدد آپ کے تحت دریا سے نکل آیا تاہم لڑکی جان کی بازی ہار گئی۔لڑکی کی لاش نکال کر تدفین کر دی گئی۔پولیس نے بتایا کہ لڑکا اور لڑکی لکڑی کے تختے پر بیٹھ کر دریا پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ڈوب گئے۔پولیس نے مزید بتایا کہ دیائے سندھ میں ڈوبنے والی لڑکی کے ورثاء نے لڑکے پر اغوا اور قتل کے الزامات عائد کیے ہیں پولیس کے مطابق لڑکے کو حراست میں لے کر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جب کہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش بھی شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب بلدیہ اتحاد ٹاؤن مفتی محمود چوک پر فائرنگ کے واقعہ میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔اس حوالے سے ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن امداد پنہور نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 35 سالہ محمود زمان کے نام سے کی گئی جسے سینے پر گولی لگی تھی فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتول برگر خرید کر پیدل گھر کی جانب جا رہا تھا کہ پہلے سے موجود موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے اس پر کچھ فاصلے سے فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ مقتول پر جس وقت فائرنگ کی گئی علاقے کے دیگر لوگ بھی وہاں پر موجود تھے ، پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے 2 خول ملے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول کا آبائی تعلق اٹک سے تھا جبکہ اس نے چند سال قبل پسند کی شادی کی تھی اور شبہ ہے کہ واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔مقتول کے بارے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ شادی سے قبل ہیلتھ ورکر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتا رہا ہے تاہم ابھی وہ کسی فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا