42

شواہد سامنے آچکے حملہ آوروں نے زمان پارک میں تربیت لی، رانا ثنا اللہ کا دعوی جناح ہاؤس میں داخل ہونے والے افراد کی شناخت ہوگئی ہے، 50 سے 100 افرادکا تربیت یافتہ گروہ تھا، وفاقی وزیر داخلہ

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا ہے کہ شواہد سامنے آچکے حملہ آوروں نے زمان پارک میں تربیت لی۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جناح ہاؤس میں داخل ہونے والے افراد کی شناخت ہوگئی ہے، 50 سے 100 افرادکا تربیت یافتہ گروہ تھا۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ آج اجلاس میں بتایا گیا کہ کتنے افراد کی شناخت اورکتنے گرفتارہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرنے سے پہلے خواتین کا گروہ حالات دیکھنے جاتا تھا، تنصیبات پرآگ لگانے والے افراد ٹریس ہوچکے ہیں۔ رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ شواہد سامنے آچکے ہیں حملہ آوروں نے زمان پارک میں تربیت لی، ثابت کریں گے کہ فتنہ اور فساد باقاعدہ منصوبہ بندی سےکیا گیا، عمران نے ان کی ایک سال تک تربیت کی اور فتنہ و فساد کیلئے تیار کیا۔ا کہنا تھاکہ میانوالی سمیت مختلف شہروں میں سرکاری اور دفاعی تنصیبات پرحملوں میں افغان شہری بھی ملوث ہیں، تنصیبات پر حملےکرنے والے لوگوں کو اب نتائج بھگتنے پڑیں گے، کسی مجرم کونہیں چھوڑا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کے واقعات پر اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کی زیر صدارت ملک بھرکے تنظیمی ذمہ داران کا اجلاس ہوا، جس میں ملک بھرسےتنظیمی عہدیداروں نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔فرخ حبیب نے اجلاس کا اعلامیہ میڈیا کو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں انتخابی میدان میں دیوار سےلگانے کی حکومت کی بھیانک سازش کی مذمت کی گئی جبکہ عمران خان کےغیرقانونی اغوا،ان پر150سےزائدجعلی مقدمات کی مذمت کی گئی۔ فرخ حبیب نے کہا کہ نو مئی کے بعد واقعات میں جلاؤ گھیراؤ،توڑپھوڑ،انتشاراورتشدد نظرآیا، شواہد سامنےآئےجن میں پرامن مظاہرین کے درمیان پُرتشدد افراد کوشامل کیاگیا،یہ لوگ سادہ کپڑوں میں ملبوس تھےاورشناخت نامعلوم ہے۔پی ٹی ۤآئی رہنما نے کہا کہ حساس مقامات پر حملوں کے بعد خواتین اوربچوں کو گھروں سےاٹھا کرچاردیواری کاتقدس پامال کیاگیا، خواتین کومردوں کےتھانوں میں رکھاگیااورہراساں کیاگیا، ہم کسی کو اس ظلم،بربریت،ماورائےقانون ظلم کی اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سےانتہائی ضروری ہےکہ اعلیٰ سطح پرایک کمیشن بنایاجائے،کمیشن آزادانہ طورپرتمام پہلوؤں کی تحقیقات کرے اور ان تحقیقات کی بنیاد پرذمہ داران کو کیفرکردارتک پہنچایاجائے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پولیس فائرنگ سے زخمی و شہید افراد کے مقدمات متعلقہ افسران کے کلاف درج کرائےجائیں گے ، انہوں نے بتایا کہ ملک بھرسے سات ہزارپی ٹی آئی کارکنان کو مختلف مقدمات میں گرفتار کیاگیا مگر زیرحراست اورگرفتارکارکنان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیاجارہا، ان کےقانونی حقوق کو پامال کیاجارہاہےجوایک سوچی سمجھی سازش کاحصہ ہے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ اجلاس میں پولیس گردی کا نشانہ بننےوالےکارکنان،شہدا کےاہلخانہ سےاظہاریکجہتی کیاگیا اور شہداکی فیملیزکی کفالت سےمتعلق خصوصی فنڈ قائم کرنےکافیصلہ کیاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں