36

ایران: توہین مذہب کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی

اسلام آباد ایران کی ایک عدالت نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ دو افراد کو توہین مذہب کا مجرم ثابت ہونے کے بعد پھانسی دے دی گئی ہے۔ ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان پر بیان جاری کیا گیا ہے کہ یوسف مہرداد اور صدر اللہ فضلی زارے کو توہین مذہب، پیغمبر اسلام اور کئی مقدس ہستیوں کی توہین سمیت دیگر جرائم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی گئی۔الزامات کیا ہیں؟ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے عدلیہ نے کہا ہے کہ دونوں ملزمان نے مختلف آن لائن مخالف مذہب پلیٹ فارمز چلائے، جو اسلام اور اس کی مقدس ہستیوں کی توہین کے ساتھ ساتھ الحاد کو فروغ دینے کے لیے وقف تھے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ملزم نے مارچ 2021 میں گستاخانہ مواد شائع کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ایران میں بغیر حجاب کے دوڑنے پر کھیلوں کے سربراہ کا استعفیٰایران سے باہر مقیم انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ایرانی پولیس کی حراست میں ایسے اعترافات زبردستی کروائے جاتے ہیں اور اکثر اوقات ملزمان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔پھانسیوں کی تعداد میں اضافہایران کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں سب سے زیادہ موت کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے گزشتہ برس چین کے بعد ایران ہی کا نمبر تھا۔ گزشتہ ماہ انسانی حقوق کے دو گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے گزشتہ سال 582 افراد کو پھانسی دی، جو 2021 کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ ہے۔سنگاپور میں بھنگ اسمگلنگ کے جرم میں بھارتی نژاد شہری کو پھانسی
ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر ) اور پیرس میں قائم ٹوگیدر اگینسٹ دی ڈیتھ پینلٹی (ای سی پی ایم) نے اپریل میں کہا تھا کہ ایران میں رواں سال اب تک 151 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ابھی تین روز قبل بھی ایران میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت ایک ایرانی نژاد سویڈش شہری کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ایرانی حکومت نے حبیب فرج اللہ پر ایک عرب علیحدگی پسند گروہ کی سربراہی اور ایرانی فوج پر حملوں کے الزامات لگائے تھے۔ سویڈن کی حکومت نے اپنے اس شہری کو تہران میں پھانسی دیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں