22

سکھر ، : شکارپور کے گاؤں بیچانجی کے رہائشی رحمت الله مہر نے سکھر نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ قبل اپنی بیوی تہمینہ کو ڈلیوری کے لیے بلڈ بینک اسپتال میں لایا

سکھر ، : شکارپور کے گاؤں بیچانجی کے رہائشی رحمت الله مہر نے سکھر نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ قبل اپنی بیوی تہمینہ کو ڈلیوری کے لیے بلڈ بینک اسپتال میں لایا، سیزر کے دوران بلڈ گروپ او پازیٹو کے بجائے اے پازیٹو لگایا گیا،اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی، بچہ بھی پیٹ میں ہی فوت ہوگیا، انتظامیہ نے اعتراف بھی کیا کہ غلطی سے دوسرا خون لگایا گیا ہے اب خون جسم سے ریموو کرتے ہیں، لیکن 18 گھنٹے گزرنے کے باوجود بلڈ ریموو نہیں کیا گیا، بیوی کی طبيعت خراب ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہم کو اسپتال سے نکال دیا، اس کے بعد بیوی کو ایس آئی یو ٹی اسپتال لے کر آءا جہاں دو گھنٹوں کے بعد وہ انتقال کر گئی، واقعی کی چھ ماہ تک انکوائری چلتی رہی اس کے بعد قاتل ڈاکٹر فرحت یاسین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، او ٹی انچارج ڈاکٹر شاہد محمود آرائیں اور او ٹی ٹیکنیشن شعیب احمد بھی ایف آئی آر میں نامزد ہے، بااثر سیاسی لوگ ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں، پولیس نے لیڈی ڈاکٹر فرحت یاسین کا نام کالم ٹو میں نکال دیا ہے، انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ و دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ قصاب خانہ بلڈ بینک اسپتال کو بند کروا کر ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کی

اپنا تبصرہ بھیجیں