40

سپریم کورٹ کے افسر پارلیمنٹ نہ آئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے، نور عالم خان آج پھر پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر سپریم کورٹ کو لکھا ہے وہ پارلیمنٹ آئیں اور جواب دیں، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

اسلام آباد : چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے افسر پارلیمنٹ نہ آئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر سپریم کورٹ کو لکھا ہے وہ پارلیمنٹ آئیں اور جواب دیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا رجسٹرار سپریم کورٹ کو کہا جاتا ہے آ پ نے پبلک اکاونٹس کمیٹی میں پیش نہیں ہونا۔نور عالم خان نے کہا آج پھرپرنسپل اکاؤنٹنگ افسر سپریم کورٹ کو لکھا ہے وہ پارلیمنٹ آئیں اور جواب دیں، اگر پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر نہ آئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں گے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورعالم خان نے کہا اگر ہم ہر قسم کا حساب دے سکتے ہیں تو یہ حساب کیوں نہیں دے سکتے؟ ہم نے اپنے اثاثوں کو ڈیکلیئرر کیا ہے، عدلیہ کو بھی اپنے اثاثے ڈیکلیئر کرانے ہوں گے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان میں کوئی بادشاہت نہیں، یہ جمہوری ملک ہے یہاں آئین ہے، ہم سپریم کورٹ کو ریکارڈ دینے کو تیار ہیں مگر سپریم کورٹ پہلے دے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے اجلاس سے خطاب کے دوران مطالبہ کیا کہ پندرہ سو روپے آب زم زم لینے کی شرط ختم کی جائے۔ خیال رہے کہ رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے 5 اجلاسوں کی کارروائی کا ریکارڈ تحریری طور پر مانگ لیا۔رجسٹرار آفس نے اسپیکر آفس سے قائمہ کمیٹی برائے فنانس کے اجلاس کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔ رجسٹرار آفس نے 6، 10، 17، 26 اور 27 اپریل کے اجلاسوں کی کارروائی کا ریکارڈ مانگا،سپریم کورٹ کے حکم اور کارروائی پر سوالات کا جواب مانگا گیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے اسپیکر سے عدالتی مداخلت پر ریکارڈ طلب کیا ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خط پر ایوان کی کارروائی کا ریکارڈ زبانی بھی مانگا تھا،رجسٹرار آفس کے زبانی احکامات پر اسپیکر آفس نے متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت سے متعلق چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور ججز کے نام خط لکھا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پانچ صفحات پر مشتمل خط لکھا گیا۔ خط میں آئین کے آرٹیکل 73 کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ عدالتی فیصلے قومی اسمبلی کے 2 بنیادی آئینی اختیارات سے تجاوز ہے،عدالت کی توجہ آرٹیکل 73 کی طرف دلانا چاہتا ہوں،حالیہ فیصلوں اور ججز کے ریمارکس پر ارکان قومی اسمبلی کے تحفظات ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ اسمبلی شدت سے محسوس کرتی ہے کہ حالیہ فیصلے 2 بنیادی آئینی فرائض میں مداخلت ہے،آرٹیکل 73 کے تحت مالیاتی بل کی منظوری قومی اسمبلی کا اختیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں