43

وزیراعظم: کی زیر صدارت اجلاس میں اتحادی رہنماؤں نے عمران خان کا خطاب بچگانہ قرار دیا عمران خان غیر سنجیدہ شخص ہے،کبھی کہتا ہے کہ مذاکرات کے لیے اسے نامزد کیا پھر اپنی ہی باتوں سے پھر جاتا ہے، یہ خود مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تو ہم کیوں جھکیں۔ شرکاء کا موقف

اسلام آباد : وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اتحادی رہنماؤں نے عمران خان کا خطاب بچگانہ قرار دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل نے عدالتی،قانونی و آئینی امور پر بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق شرکاء کو پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے ابتدائی رابطوں بارے آگاہ کیا گیا،اجلاس میں کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پیش نظر پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ اتحادیوں نے الیکشن فنڈز فراہمی سے متعلق پارلیمنٹ کے فیصلے پر کاربند رہنے کا عزم کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی رہنماوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔اتحادی رہنماؤں نے عمران خان کے کل کے خطاب کو بچگانہ قرار دے دیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ غیر سنجیدہ شخص اور غیر ضروری عنصر ہے۔شرکا نے بھی موقف اختیار کیا کہ عمران خان کبھی کہتا ہے کہ مذاکرات کے لیے اسے نامزد کیا پھر اپنی ہی باتوں سے پھر جاتا ہے، یہ خود مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تو ہم کیوں جھکیں۔اب جو بھی بات چیت ہو گی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے ہو گی۔عمران خان کو بھی پارلیمنٹ کے فورم پر آنا ہو گا، اتحادیوں کی اکثریت نے مذاکرات سے متعلق مولانا فضل الرحمن کے موقف سے اتفاق کیا، ذرائع کے مطابق حکومت نے آئینی اور قانونی محاذ پر بھرپور سیاسی جنگ لڑنے کا عزم اختیار کیا۔جب کہ وزیراعظم نے کہا کہ انصاف کے ترازو کے پلڑے برابر نہیں،ہمارے مؤقف درست ثابت ہو رہا ہے،پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اجلاس میں عمران خان سے مذاکرات نہ کرنے سے متعلق اپنا مؤقف دہرایا۔ شرکاء نے رائے دی کہ بامقصد مذاکرات کیلئے سب کا متفق ہونا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں