52

مستعفی اراکین قومی اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا پی ٹی آئی کے 9 اراکین کو اسمبلی ہال میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے 9 اراکین کے آج قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کا معاملہ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ان 9 اراکین کو اسمبلی ہال میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے داخلے سے روکنے کے لیے سیکیورٹی سٹاف اور سارجنٹ ایٹ آرمز کو احکامات جاری کر دیے۔ذرائع اسپیکر آفس کا کہنا ہے کہ ان 9 اراکین کے استعفی منظور ہو چکے، داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ داخلے کی اجازت سے متعلق کسی عدالت کا کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوا۔مستعفی اراکین کو کیسے ایوان میں داخلے کی اجازت دے سکتے ہیں، کوئی اجنبی ایوان میں داخل نہیں ہو سکتا۔خیال رہے کہ کراچی کے 9 ایم این ایز نے بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس سلسلے میں آفتاب صدیقی نے اجلاس میں شرکت کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا تھا۔آفتاب صدیقی کے مطابق کراچی کے 9ایم این ایز 26 اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔خط میں لکھا گیا کہ اسپیکرکے حکم کی معطلی کے بعد بطوررکن اجلاس میں شرکت کاپوراحق رکھتے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں ، اجلاس میں شرکت سے روکا گیا تواحتجاج اور قانونی کارروائی کریں گے۔دوسری جانب سربراہ عوامی مسلم لیگ کے و سابق وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ لینے کے لیے صدر پاکستان کو مراسلہ لکھ دیا۔سابق وفاقی وزیرشیخ رشید نے اپنے وکیل اظہرصدیق کی وساطت سے مراسلہ ارسال کیا۔خط کے متن کے مطابق الیکشن کراناحکومت کی آئینی ذمہ درای ہے، قومی اسمبلی میں فنڈزمنظورنہ کروا کر وزیراعظم اکثریت کھوچکے ہیں۔خط کے متن کے مطابق وزیراعظم پاکستان کی ایوان میں اکثریت نہیں رہی، صدر وزیراعظم کو ایوان سے اعتماد کاووٹ لینے کی ایڈوائس کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں