52

سوڈان میں 72 گھنٹے کی جنگ بندی، مصری سفارت کار ہلاک

اسلام آباد : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بتایا کہ امریکہ اور سعودی عرب کی سہولت کاری سے سوڈان میں باہم متحارب فریقین پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے اگلے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔انٹونی بلنکن نے بتایا کہ دو دن کے سرگرم مذاکرات کے بعد جنگ بندی معاہدہ ہوا۔سوڈان کی فوج اور متحارب نیم فوجی دستہ ریپیڈ سپورٹ فورسز کے درمیان گزشتہ ہفتے کئی عارضی جنگ بندی معاہدے کامیاب نہیں رہے تھے۔سوڈان میں دونوں فوجی جرنیلوں کے درمیان رسہ کشی کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔سوڈان میں نیم فوجی فورسز عید پر 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر متفقر ایس ایف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران وہ انسانی بنیادوں پر شہریوں کو محفوظ علاقوں اور ہسپتالوں تک آمد و رفت میں مدد کرے گی۔وہ سفارتی مشنوں کو اپنے شہریوں کے انخلاء میں بھی مدد کرے گی۔مصری سفارت کار ہلاکمصر کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ خرطوم میں اس کے سفارت خانے میں تعینات معاون انتظامی اتاشی وہاں جاری لڑائی کے دوران مارے گئے۔وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، “محمد الغروی سوڈان میں پھنسے ہوئے مصریوں کے انخلاء میں مدد کرتے ہوئے اس وقت گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے جب وہ سفارت خانے کی طرف جا رہے تھے۔ان کی ہلاکت کی خبر سب سے پہلے سوڈانی فوج نے دی۔ اس نے تاہم اپنے بیان میں کہا کہ مصری سفارت خانے کے معاون انتظامی اتاشی نیم فوجی دستے ریپیڈ سپورٹ فورسز کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ میں مارے گئے۔فریقین سے جنگ بندی پر عمل کرنے کی اپیلامریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ “امریکہ سوڈانی فوج (ایس اے ایف) اور ریپیڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) سے درخواست کرتا ہے کہ جنگ بندی کے دوران اس پر فوراً اور مکمل عمل کریں۔جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک پائیدار حمایت کے طور پر امریکہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں اور سوڈانی سویلین اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔”خیال رہے کہ فوج اور آر ایس ایف کے درمیان 15اپریل کو جنگ شروع ہوئی تھی جس میں اب تک کم از کم 427 افرا د ہلاک ہو چکے ہیں۔فریقین کے درمیان فائرنگ کی وجہ سے ہسپتال اور دیگر خدمات متاثرہوئے ہیں اور رہائشی علاقے وار زون میں تبدیل ہو چکے ہیں۔خرطوم میں لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں اور خوراک اور پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیریش نے کہا کہ “ایک ملک میں تشدد کا اثر بحراحمر، قرن افریقہ اور ساحل خطوں پر پڑ رہا ہے اور یہ پورے خطے کے ساتھ ساتھ اس سے باہر کے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔”اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے کھانے، صاف پانی، دوائیں اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔مواصلات اور بجلی تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ عام ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔غیر ملکی شہریوں کا انخلاء جاریمتعدد ملکوں نے اپنے شہریوں کو جنگ زدہ علاقوں سے نکالنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے بتایا کہ آخری طیارے کے آنے تک 400 سے زائد جرمن شہریوں کو سوڈان سے نکال لیا جائے گا۔جرمن سفارتی عملے کو سوڈان سے باہر نکالنے کی کارروائی شروعدو فرانسیسی طیارے بھی مختلف ملکوں کے تقریباً 200 شہریوں کو لے کر جبوتی پہنچے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اب تک مجموعی طورپر 300 افراد کو نکال چکے ہیں۔ آئرلینڈ بھی اپنے شہریوں کو سوڈان سے نکالنے کے لیے ہنگامی ٹیم روانہ کررہا ہے۔امریکہ نے اتوار کو بتایا تھا کہ اس نے اپنے تقریباً 100 شہریوں کو سوڈان سے نکال لیا ہے۔ ان میں امریکی حکومت کے اہلکار اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔جاپان نے بتایا کہ اس نے اپنے تقریباً تمام شہریوں کو سوڈان سے نکال لیا ہے اور خرطوم میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں