37

ملک میں معاشی ، سیاسی اور آئینی بحران کا ذمہ دار عمران خان ہے، وزیراطلاعات ملک کو اس فتنے اور فسادی سے نجات دلا کر دم لیں گے‘ جو جہاں اِس فتنہ اور فساد کا سہولت کار ہے وہ قوم کا مجرم ہے‘ جن سہولت کاروں کی تسلیوں پر اسمبلیاں توڑیں وہ دم توڑ رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب کا بیان

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی ، سیاسی اور آئینی بحران کا ذمہ دار عمران خان ہے، جو جہاں اِس فتنہ اور فساد کا سہولت کار ہے وہ قوم کا مجرم ہے، نوجوانوں اور عوام سے جھوٹ بولا فراڈ کیا اور دھوکہ دیا، نالائق نے اپنی حکومتیں خود گرائیں اور جن سہولت کاروں کی تسلیوں پر اسمبلیاں توڑیں وہ دم توڑ رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران صاحب سہولت کاری آخری دموں پہ ہے، تم ماضی کا حصہ ہوتے جا رہے ہو، سہولت کاروں کے کہنے پہ آئین توڑا اور کہتے تھے کہ محسن نقوی نے میری حکومت کے خلاف عالمی سازش کی اور اب کہتے ہو وہ تشدد کر رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پٹرول بم برسانے والے دہشتگردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے، تم فارن فنڈنگ ، گھڑی چوری اور اپنی بیٹی کو بیٹی نہ ماننے کی وجہ سے نااہل ہو گے، ملک کو تم جیسے فتنے اور فسادی سے نجات دلا کر دم لیں گے، نوجوانوں کو تمہارے جیسے شر سے نجات دلائیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 90 روز میں کرپشن بھی ختم ہونی تھی، 100 دن میں معیشت اور گورننس بھی ٹھیک ہونی تھی، 200 معاشی ماہرین اور200 ارب ڈالر بھی باہر سے آنے تھے، ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھر بھی ملنے تھے، تمہارے دھوکے اور فراڈ کا وقت تمام ہو چکا۔ قبل ازیں قوم سے اپنے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے یہ اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں کرائیں گے، یہ چاہتے عمران خان جیل میں ہو یا نااہل، پھر الیکشن کرائیں گے، مجھے بتائیں اکتوبر میں الیکشن سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟ آئین 90 روز میں الیکشن کرانے کیلئے بڑا کلیئر ہے، 90 روز کے بعد نگران حکومت کیا حیثیت رہ جائے گی؟ سپریم کورٹ میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر قوم کو تیار کرنا چاہتا ہوں، قوم کی زندگی پر اب فیصلہ کن وقت ہے، قوم کو قانون اور آئین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 90 دن میں الیکشن سے متعلق آئین کی شق کو دیکھ کر اپنی حکومت گرائی تھی، 90 دن سے نکلنا بڑا خطرناک ہے کیوں کہ پہلے بھی اس قوم کے ساتھ 90 روز کا کہہ کر 11سال ہوچکا ہے، اکتوبر میں کیوں؟ اکتوبر میں زیادہ حالات خراب ہوسکتے ہیں اور زیادہ پیسے کی کمی ہوسکتی ہے، کیا اب طاقتور طے کرے گا کہ کون سی آئین کی شق استعمال کرنی ہے اور کون سی نہیں؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں