42

اس بینچ کو شاید میری ضرورت نہیں، جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ جاری میں بینچ کا حصہ تھا، جو بھی ہوا میری مشاورت سے نہیں ہوا،اس دعا کے ساتھ بینچ سے علیحدہ ہو رہا ہوں کہ اللہ ادارے پر رحم کرے، میری دعا ہے بینچ سے ایسا فیصلہ آئے جو سب کو قبول ہو۔ جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد : انتخابات ملتوی کیس،سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ پھر ٹوٹ گیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے پنجاب اور خیبر پختو نخوا کیس کی سماعت سے معذرت کر لی جس کے بعد سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ پھر ٹوٹ گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کل کے حکم نامے سے اختلاف کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سماعت کا حکم نامہ نہ عدالت میں لکھوایا گیا نہ مجھ سے مشاورت کی گئی۔حکم نامہ کھلی عدالت میں نہیں لگایا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کا کھلی عدالت میں جائزہ لینا چاہیے۔میں بینچ کا حصہ تھا جو بھی ہوا میری مشاورت سے نہیں ہوا۔مجھے لگتا ہے شاید اس بینچ میں مس فٹ ہوں۔اس بینچ کو شاید میری ضرورت نہیں،اس دعا کے ساتھ بینچ سے علیحدہ ہو رہا ہوں کہ اللہ ادارے پر رحم کرے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184 تھری کے مقدمات پر سرکلر جاری کر دیا،سرکلر کے مطابق جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے فیصلے میں از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا،سرکلر میں اس انداز میں بینچ کا از خود نوٹس لینا 5 رکنی عدالتی حکم کی خلاف وزری قرار دیا گیا۔سپریم کورٹ کے سرکلر میں کہا گیا کہ از خود نوٹس صرف چیف جسٹس پاکستان ہی لے سکتے ہیں۔ آرٹیکل 184 تھری کے مقدمات کی سماعت روکنے کا حکم لارجر بینچ پر لاگو نہیں ہوتا،جسٹس قاضی فائر عیسی اور جسٹس امین الدین کا فیصلہ دیگر بینچ پر لاگو نہیں ہوتا۔ سرکلر کے مطابق 5 رکنی لارجر بینچ چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کا اختیار واضح کر چکا ہے،حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس میں درخواست سے ہٹ کر فیصلہ کیا گیا،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے۔حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس میں از خود نوٹس کی کاررروائی غیر قانونی ہے۔ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس کا فیصلہ مسترد کیا جاتا ہے،رجسٹرار سپریم کورٹ سرکلر سے متعلق کیس کے فریقین کو آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے از خود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فیصلے کی مخالفت کی تھی،سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 نمبر دینے کے ازخود نوٹس کیس میں جسٹس شاہد وحید نے اپنے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ اس کیس میں جن معاملات پر فیصلہ دیا گیا وہ عدالت کے سامنے تھے ہی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں