16

معیشت پرسیاست نہیں ہونی چاہیے،وزیرخزانہ کی ایک بارپھرمیثاق معیشت کی دعوت گزشتہ 5 سال میں فراڈ پالیسیوں اور نا اہلی کے باعث یہ معاشی صورتحال ہے،موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر کوئی وعدہ نہیں توڑا، تمام ادائیگیاں بروقت کی گئیں ،مشکل کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر10 ارب ڈالر سے زائد ہیں، سینٹ میں خطاب

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایک بار پھرمیثاق معیشت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،گزشتہ 5 سال میں فراڈ پالیسیوں اور نا اہلی کے باعث یہ معاشی صورتحال ہے،موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر کوئی وعدہ نہیں توڑا، تمام ادائیگیاں بروقت کی گئیں ،مشکل کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر10 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔جمعرات کو سینٹ میں اپوزیشن سینیٹرز سینیٹر محسن عزیز اور سینیٹر فیصل جاوید کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری پر بھاری اخراجات آئے، بھاری اخراجات کے باوجود اس پر سنجیدہ تحفظات تھے جن کے باعث 2018 کے انتخابات میں مسئلہ تھا۔انہوںنے کہاکہ 1973 کے آئین کے تحت یہ مردم شماری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے تعاون سے جدید نظام کے تحت بچت کی جاسکتی ہے۔اگر اس کیلئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے تو یہ کی جاسکتی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پرانی مردم شماری پر ہونے چاہئیں یا نہیں اگر یہ انتخابات ہوجاتے ہیں تو اکتوبر میں عام انتخابات میں کیا صورتحال ہوگی۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر کوئی وعدہ نہیں توڑا، تمام ادائیگیاں بروقت کی گئیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ سابق حکومت نے عالمی سطح پر معاہدہ توڑا جس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ چین کے بینکوں نے اپنا قرضہ رول اوور کردیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مشکل کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر10 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر13 ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شرح سود میں کمی کیلئے کوشاں ہیں، معیشت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، یہ قوم کے مستقبل کا معاملہ ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے۔انہوںنے کہاکہ مہنگائی سمیت دیگر مسائل ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔گزشتہ 5 سال میں فراڈ پالیسیوں اور نا اہلی کے باعث یہ معاشی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ایوان میں سٹیٹ بینک سے متعلق ترامیم کی گئی ہیں، مالیاتی پالیسی پرحکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں