31

سپریم کورٹ میں قواعد اور طریقہ کار میں تبدیلی کا بل سینیٹ سے منظور سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس و پروسیجر ایکٹ 2023 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں قواعد اور طریقہ کار میں تبدیلی کا بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا۔چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ایوان میں جمع کرنے کی تحریک جمع کرائی۔ سینیٹ میں سپریم کورٹ ریکٹس و پروسیجر ایکٹ 2023 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔بل کے حق میں 60جب کہ مخالفت میں 19 ووٹ ڈالے گئے۔سینیٹ نے پریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی اپوزیشن کی تحریک مسترد کر دی گذشتہ روز قومی اسمبلی نے بعض ترامیم کے ساتھ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023ء کی منظوری دی تھی۔بدھ کو وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں بل ایوان میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے بل پیش کیا جس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ہے کہ اس ادارے کا اصل کام قانون سازی ہے، اس سے کوئی عدالت یا ادارہ اس کو روک نہیں سکتا تاہم ازخود نوٹس بل لانے میں عجلت کی بجائے تمام فریقین سے مشاورت کی جانی چاہئے تھی، کے پی کے سیلاب متاثرین کو تاحال ریلیف نہیں ملا ، ہمیں اپنے اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا، عدلیہ کی مراعات دنیا میں 5 ویں اور کارکردگی 128 ویں نمبر پر ہے۔تحریک انصاف کے رکن احمد حسن ڈیہڑ نے کہا کہ وہ اس بل پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس بل سے غریب کو انصاف ملے گا، یہ بل وکلاء کا دیرینہ مطالبہ تھا، اس ملک کو تباہ کرنے کی عالمی سازش ہو رہی ہے، حامد خان نے اس بل کو سرا ہا ہے، ان کی انارکی ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہے، سوموٹو کا فیصلہ سینئر ترین ججوں کے اختیار سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اس سے قانون کی حکمرانی ہوئی ہے۔تحریک انصاف کے رکن صالح محمد نے کہاکہ بل عجلت میں پیش ہوا، ہم بھی عدلیہ میں اصلاحات کے حق میں ہیں، اس بل میں ہم سے بھی ترامیم لی جائیں، ان ترامیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد نے کہا کہ بل پیش کرنے پر وزیر قانون اور ایوان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، یہ وقت کا تقاضا تھا، یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے ہے، عام آدمی کو اس بل سے انصاف ملے گا، سوموٹو کے حوالے سے ون مین شو کا خاتمہ ہوگا، حکومت اور اپوزیشن نے وکلاء کا ترجمان بل پاس کیا ہے، اچھے قانون بنانے میں جتنی جلدی ہو وہ قابل ستائش ہے، اس بل کی منطوری پر حکومت اور اپوزیشن کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں