28

بیرسٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر تحفظات کا اظہار کر دیا اعتراض اس بل کی ٹائمنگ پر ہے،میں ایسے بل کا حصہ نہیں بنوں گا جو آئین سے متصادم ہو،پی ٹی آئی سینیٹر کا سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد : پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا،پی ٹی آئی کے سینیٹر اور بیرسٹر علی ظفر نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ راتوں رات جو بل آیا اس پر دو تحفظات ہیں،اعتراض اس بل کی ٹائمنگ پر ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں انتخابات ملتوی کیس چل رہا ہے،حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک میں دہشت گردی ہے اور پیسہ نہیں ہے۔راتوں رات میٹنگ کے بعد قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جاتا ہے،اس بل کے تحت حکومت سپریم کورٹ کے اختیار کم کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بل میں دوسری چیز یہ ہے کہ آپ اپیل کا حق دینے جا رہے ہیں،اس معاملے میں آئینی ترمیم ہونی چاہیے،کوئی ایسا قانون پاس نہیں کیا جا سکتا جو آئین کیخلاف ہو،میں ایسے بل کا حصہ نہیں بنوں گا جو آئین سے متصادم ہو۔علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ فخر کرنا چاہیے ہم سینیٹر ہیں اور قانون سازی کر سکتے ہیں، ہمارا فرض ہے جو بھی بل آئے اس کو دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں۔آئین کا آرٹیکل 184 تھری بہت اہم ہے،جب سے آئین بنا آرٹیکل 184 کو تبدیل نہیں کیا گیا،عوامی اہمیت کے حامل معاملے پر فیصلے دینے کا سپریم کورٹ کو اختیار ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پیش کرنے کی تحریک سینیٹ میں پیش کردی گئی ہے جبکہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی مخالفت کی جائے گی،سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی سینیٹ میں مخالفت کریں گے،ہماری ڈیمانڈ ہے کہ بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں