32

ابو ظہبی کا نیا ولی عہد کسے مقرر کیا گیا ہے؟

اسلام آباد : متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے بدھ کے روز اپنے بڑے بیٹے شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کو ریاست کا ولی عہد مقرر کرنے کے ساتھ ہی اپنے بھائیوں کو بھی بعض اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر کے ملک کی اعلیٰ شخصیات اور اشرافیہ کو حیران کن جھٹکا دیا۔متحدہ عرب امارات کے صدر کا انتقال، دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بارش ابوظہبی متحدہ عرب امارات کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ہی امارات کی سات ریاستوں میں سب سے امیر ریاست ہے۔شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان اب اس کے ولی عہد ہیں۔ یہ عہدہ روایتی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست کا اگلا صدر کون ہو گا۔اسرائیل میں متحدہ عرب امارات کا سفارتخانہ کھول دیا گیا برطانوی فٹ بال کلب مانچسٹر سٹی کے مالک منصور بن زید النہیان کو، دبئی کے حکمراں محمد بن راشد المکتوم کے ساتھ ہی، تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کا نائب صدر نامزد کیا گیا ہے۔ابوظہبی کے ولی عہد کا دورہ اسرائیل، صدر ریولین نے دعوت دے دی اس اقدام کا مطلب کیا ہے؟ولی عہد کے طور پر شیخ خالد کی تقرری سے ابوظہبی میں اقتدار کی مرکزیت کو مزیدتقویت ملی ہے، جس کے پاس سن 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد سے ہی، ملک کی صدارت ہے۔متحدہ عرب امارات میں پہلی باقاعدہ یہودی عبادت گاہجانشینی کے لیے یہ فیصلہ بھائیوں کی نسبت بیٹوں کی طرف غالب رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے، جیسا کہ سعودی عرب کی طرح دیگر خلیجی ممالک میں ہوا ہے۔یورپی کونسل میں خارجی تعلقات کے امور کی ایک ریسرچ فیلو سنزیا بیانکو کا کہنا ہے کہ شیخ محمد نے اپنے ممتاز بھائیوں کو نئے عہدوں پر مقرر کر کے ”طاقت کے اشتراک میں کچھ توازن رکھا ہے، تاہم اسے بھی صرف (ابوظہبی کے) النہیان قبیلے کے اندر ہی محدود رکھا۔”شیخ محمد ایم بی زیڈ کے نام سے بھی معروف ہیں، جنہیں گزشتہ برس ان کے سوتیلے بھائی شیخ خلیفہ کی موت کے بعد صدر نامزد کیا گیا تھا۔حالانکہ شیخ خلیفہ کے بیمار ہونے کی وجہ سے خود ایم بی زیڈ ہی برسوں سے متحدہ عرب امارات کے عملاً حکمران تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں