29

حکومت نے انتخابات ملتوی کیس میں فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا ایسے مقدمات میں ابہام دور کرنے کیلئے فل کورٹ بننا چاہیے،الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد : حکومت نے انتخابات ملتوی کیس میں فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات از خود نوٹس کیس میں گزشتہ روز 2 ججز صاحبان کا اختلافی فیصلہ سامنے آیا،اختلافی نوٹ کے مطابق چار تین کے تناسب سے درخواستیں مسترد کی گئیں،آج امید ہے کہ سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ سامنے آ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات ملتوی کیس میں سپریم کورٹ کے موجودہ بینچ سے استدعا ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیا جائے،فل کورٹ کا 13 رکنی بینچ ہونا چاہیے جو یہ معاملہ سنے۔ ایسے مقدمات میں ابہام دور کرنے کیلئے فل کورٹ بننا چاہیے،آرٹیکل 184 تین کے اختیارات طریقہ کار کے تحت آنے چاہئیں۔وزیر قانون نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 218 تھری کے تحت ڈیوٹی کر رہا تھا،الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں۔یاد رہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل تین بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے،مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف آج فریق بننے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گی،حکومتی اتحاد کی تینوں سیاسی جماعتیں عدالت میں اپنا مؤقف بھی پیش کریں گی۔ جبکہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔دورانِ سماعت پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ کو انتخابات کی تاریخ دینے کا فیصلہ دیا۔ الیکشن کمیشن نے 8 مارچ کو پنجاب میں انتخاب کا شیڈول جاری کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کو بدل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں