30

آٹا نہ ملنے کی وجہ سے 6 لوگ مر چکے، ہمارے دور میں آٹا 55 اور آج 155 روپے کلو ہو چکا ہمارے دور میں یہ کہتے تھے بڑی مہنگائی ہے، ہمارے دورمیں کورونا آیا لیکن ایسی مہنگائی نہیں تھی، آج پاکستان میں تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی ہے، کون سی قیامت آگئی 11 ماہ میں آٹا 155 روپے کلو کا ہو گیا؟ عمران خان کا سوال

لاہور : عمران خان نے سوال کیا ہے کہ کون سی قیامت آگئی 11 ماہ میں آٹا 155 روپے کلو کا ہو گیا؟۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جمعہ کی شب کو جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آٹا نہ ملنے کی وجہ سے 6 لوگ مر چکے، ہمارے دور میں آٹا 55 اور آج 155 روپے کلو ہو چکا ہمارے دور میں یہ کہتے تھے بڑی مہنگائی ہے، ہمارے دورمیں کورونا آیا لیکن ایسی مہنگائی نہیں تھی، آج پاکستان میں تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی ہے، کون سی قیامت آگئی 11 ماہ میں آٹا 155 روپے کلو کا ہو گیا؟ گزشتہ 11 ماہ سے امپورٹڈ حکومت مسلط ہے۔ہم غلام ہیں آزاد نہیں ہیں، آج ہم بھکاریوں کی طرح دنیا سے پیسے مانگ رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے مشورے دیے جارہے ہیں کہ آپ آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان چلے جائیں کیونکہ وہاں آپ کی حکومت ہے اور آپ کو تحفظ کی بھی ضرورت ہے مگر اب میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔مجھے یہاں سے بھیجنے کیلیے کئی بار مشورے دیے گئے مگر میں نے انکار کردیا، میں زمان پارک میں ہی رہوں گا اور یہی بیٹھا ہوں جس کو آکر مارنا ہے مار دے۔تحریک انصاف کے لاہور جلسے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ لاہور جب نکلتا ہے تو فیصلہ ہوجاتا ہے، میں کل حقیقی آزادی کا روڈ میپ دوں گا، قوم جلسے میں ضرور آئے اور حقیقی آزادی حاصل کرے۔ عمران خان نے انکشاف کیا کہ مینار پاکستان کا جلسہ روکنے کیلیے پی ٹی آئی کے 1 ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے مگر اب قوم رکنے والی نہیں ہے۔طاقتور کو قانون یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی کرے، جو پاکستان میں ہو رہا اس کا مسئلہ یہ ہے کہ طاقتور اپنے آپ کو قانون نے بالا تر سمجھتا ہے۔ انصاف ہی ایک قوم کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے ہی قوم آزاد ہوتی ہے ، کبھی سنا ہے برطانیہ یا یورپ میں قبضہ مافیا ہو؟۔ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں الیکشن کے التوا کے حوالے سے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے فنڈز نہ ہونے کا بہانہ بنایا اور اب الیکشن 8 اکتوبر کو چلے گئے کیا 8 تک سارے ملکی مسائل حل ہوجائیں گے؟۔کون آج گارنٹی دے گا کہ آٹھ اکتوبر کو الیکشن ہوں گے یا نہیں؟ کون یہ فیصلہ کرے گا، ہم نے اگر آئین کا قتل ہونے دیا تو بات رکے گی نہیں بلکہ بہت آگے جائے گی، پہلے بھی تاریخ میں 90 دن میں الیکشن کروانے کا کہا گیا لیکن کیا ہوا آمریت ملک میں آ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں