اسلام آباد: بلوچستان کے لیکچررز کی تعداد 94 ہے جو بیرون ملک گئے اور وطن واپس نہیں لوٹے۔ یہ معاملہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی جانب سے جواب طلبی کے دوران سامنے آیا ہے۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کے باعث یہ صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ لیکچررز کیوں واپس نہیں آئے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی نے یہ بھی جانچنے کا فیصلہ کیا ہے کہ کیا ان کی غیر موجودگی تعلیمی نظام پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کے باعث طلباء کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ صورتحال بلوچستان کے تعلیمی نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اساتذہ کی کمی اور ان کی غیر موجودگی نے تعلیمی معیار کو متاثر کیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ طلباء کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
کمیٹی کی جانب سے مزید تحقیقات کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس معاملے میں جلد ہی کوئی پیش رفت ہوگی۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اساتذہ کی واپسی کے لیے اقدامات کرے۔