اسلام آباد: ذیابیطس کے خطرات خواتین میں زیادہ ہوتے ہیں، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دل کے دورے کا خطرہ ان میں مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ یہ بات اس بیماری کی پیچیدگیوں کی جانب اشارہ کرتی ہے جو عموماً مردوں اور خواتین دونوں کو متاثر کرتی ہے، مگر خواتین میں اس کے اثرات زیادہ شدید ہوتے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین میں ذیابیطس کی علامات اور اثرات کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ خواتین میں ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے دل کے دورے، فالج اور دیگر صحت کے مسائل کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والی دیگر بیماریوں جیسے گردے کی بیماری اور بینائی کی کمزوری بھی خواتین میں زیادہ عام ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلیاں، خاص طور پر حمل اور مینوپاز کے دوران، ذیابیطس کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خواتین کی زندگی کے مختلف مراحل میں جسمانی وزن میں تبدیلیاں بھی ذیابیطس کے خطرات کو متاثر کرتی ہیں۔
یہ ضروری ہے کہ خواتین اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں اور ذیابیطس کی علامات پر توجہ دیں۔ باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند طرز زندگی اپنانا اس بیماری کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔