نئی آٹو پالیسی

نئی آٹو پالیسی: الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے وزیر اعظم کی منظوری

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے اور مقامی سطح پر اجارہ داری ختم کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں گاڑیوں کی صنعت میں مقابلے کی فضا کو فروغ دینا اور مہنگے پٹرولیم مصنوعات پر پاکستان کے انحصار کو تدریجاً کم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے اس اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نئی آٹو پالیسی کے تحت غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے لیے خصوصی مراعات اور ٹیکس چھوٹ دی جائے گی تاکہ عام شہریوں کو جدید اور ماحول دوست سواریاں مناسب قیمت پر میسر آسکیں۔

مقامی مارکیٹ میں اجارہ داری کا خاتمہ

کئی دہائیوں سے پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری پر چند مخصوص کمپنیاں قابض ہیں، جس کی وجہ سے گاڑیوں کے معیار اور ان کی قیمتوں پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ نئی آٹو پالیسی کی منظوری سے مقامی مارکیٹ میں براہ راست مقابلہ پیدا ہوگا جس سے بین الاقوامی سطح کی نئی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں پاکستان کی جانب راغب ہوں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ خریداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس متعدد اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

پٹرولیم کے درامدی بل میں نمایاں کمی کا ہدف

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا ایک بڑا زر مبادلہ پٹرولیم مصنوعات کی درامد پر صرف ہوتا ہے جس سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ نئی آٹو پالیسی کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ آئندہ چند سالوں کے دوران ملک کے پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو الیکٹرک پاور پر منتقل کیا جائے۔ الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھنے سے نہ صرف ایندھن کے درامدی بل میں اربوں ڈالر کی بچت ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔

ماحول دوست ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی

اس پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنز کا جال بچھانے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے شاہراہوں، موٹرویز اور بڑے شہروں کے تجارتی مراکز میں فاسٹ چارجنگ پوائنٹس قائم کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور گرین انرجی کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور روزگار میں اضافہ

وزارت انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن کے مطابق اس جامع پالیسی کی منظوری کے بعد پاکستان میں نئی انڈسٹریل زونز اور الیکٹرک گاڑیوں کی اسمبلنگ یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ اس صنعتی انقلاب سے مقامی نوجوانوں کے لیے ہزاروں کی تعداد میں تکنیکی اور انتظامی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ صنعتی ماہرین نے اس فیصلے کو پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے ایک نیا موڑ قرار دیا ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تمام التوا کا شکار منصوبوں کو تیز رفتار بنانے اور سرمایہ کاروں کو فوری سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ اس پالیسی سے پاکستان میں گاڑیوں کا نیا دور شروع ہوگا جو شفاف، مسابقتی اور ماحول دوست ہوگا۔