اسلام آباد: جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق، نیا بلڈ ٹیسٹ جگر کے مسائل کی شناخت میں ایم آر آئی کی طرح مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ ٹیسٹ جگر کو پہنچنے والے نقصان اور بیماری کی شدت کو جانچنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے اس نئے بلڈ ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد یہ امید ظاہر کی ہے کہ یہ ٹیسٹ جگر کی بیماریوں کی تشخیص کے روایتی طریقوں کی جگہ لے سکتا ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے مریضوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
تحقیقات کے مطابق، یہ بلڈ ٹیسٹ نہ صرف جگر کی حالت کی درست تشخیص فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی شدت کا بھی اندازہ لگاتا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو بہتر علاج کے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ پیش رفت طبی دنیا میں ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے، جو کہ جگر کی بیماریوں کے شکار افراد کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹ کی دستیابی سے جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں وقت کی بچت ہوگی اور مریضوں کو فوری علاج فراہم کیا جا سکے گا۔ اس تحقیق کے نتائج جلد ہی طبی جرائد میں شائع کیے جائیں گے، جس سے مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔