اسلام آباد: ایل این جی جہاز پر حملہ کی تصدیق دفتر خارجہ نے کی ہے۔ یہ واقعہ خلیج فارس میں پیش آیا، جہاں ایک لیکویفائیڈ نیچرل گیس لانے والا جہاز نشانہ بنا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں ہوا اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم یہ واقعہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب دنیا بھر میں توانائی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایل این جی کی درآمد انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ دفتر خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرے۔
حملے کی تفصیلات کے مطابق، جہاز پر موجود عملے نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے خود کو محفوظ رکھا۔ اس واقعے کے بعد، پاکستان نے اپنی سمندری سیکیورٹی میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔