اسلام آباد: چیٹ جی پی ٹی پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں ایک مرد نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی بیوی نے اپنے شوہر کو زہر دینے کی منصوبہ بندی میں چیٹ جی پی ٹی کی مدد لی۔ یہ واقعہ شمالی کیرولائنا میں پیش آیا، جہاں مرد نے اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او سیم آلٹمین کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔
مرد کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی نے چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے زہر دینے کے طریقے کی معلومات حاصل کیں، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ یہ مقدمہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات بھی موجود ہیں۔
اوپن اے آئی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا گیا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ٹیکنالوجی کی ذمہ داریوں اور اخلاقیات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے مقدمات مستقبل میں مزید سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر جب ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہو۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چیٹ جی پی ٹی جیسے ایپلیکیشنز کی طاقتور صلاحیتیں جہاں فائدہ مند ہو سکتی ہیں، وہیں ان کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ اس مقدمے کے نتائج ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔