اسلام آباد: پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوث شخص کا نام سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن غیر قانونی ہے اور اس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل شامل ہیں۔ اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق، اپوزیشن اتحاد نے واضح کیا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن صرف پی ٹی آئی کے کارکنان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم منصوبہ ہے جس کا مقصد سیاسی مخالفین کو دبانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی اس کریک ڈاؤن کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس غیر قانونی کریک ڈاؤن کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں اور اس سیاسی انتقام کا مقابلہ کریں۔
اس صورتحال میں، اپوزیشن اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس کریک ڈاؤن کو بند کرے اور سیاسی انتقام کی اس مہم کو ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہ کی تو وہ مزید سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔