اسلام آباد: پاکستان میں پولیو کیس کی رپورٹ نے صحت کے نظام کو ایک بار پھر چیلنج میں ڈال دیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق، رواں سال پولیو کا یہ نواں کیس ایک 7 ماہ کے بچے میں سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں پولیو کے خلاف جاری مہمات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
<pپولیو ایک مہلک بیماری ہے جو بچوں کو متاثر کرتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے۔ حالیہ کیس کی رپورٹ کے بعد، حکومت نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مزید کیسز کی روک تھام کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، والدین کو بھی آگاہی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے میں کوتاہی نہ کریں۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف مہمات کے باوجود، یہ کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ چیلنجز ابھی بھی موجود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اس مسئلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ اس بیماری کا خاتمہ کیا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ میں عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے کے لیے آگے آئیں اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کریں۔