اسعد محمود غیر قانونی قبضہ

اسعد محمود غیر قانونی قبضہ کیس میں ملوث، خیرالمدارس زمین پر تنازع

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، جہاں اسعد محمود غیر قانونی قبضہ کے سنگین معاملے میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔ زرائع کے مطابق یہ تنازع خیرالمدارس ملتان کی قیمتی اوقافی زمین اور کمرشل دکانوں کی منتقلی اور غیر قانونی تصرف سے متعلق ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں واقع تاریخی دینی درسگاہ جامعہ خیرالمدارس کی ملکیت زمین اور اس سے ملحقہ کمرشل دکانوں پر ناجائز تصرف اور من پسند افراد کو نوازنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق انتظامی امور میں مبینہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے قیمتی اراضی کی خرد برد کی گئی، جس میں سابق وفاقی وزیر کا نام سامنے آنے سے سیاسی و مذہبی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اسعد محمود غیر قانونی قبضہ کیس کے تمام پہلوؤں کی باضابطہ چھان بین کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مقامی شہریوں اور متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی جانے والی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اوقاف اور دینی مدارس کی املاک کو ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا قانون اور اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے۔ اس معاملے پر جامع تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کا نام اس نوعیت کے مالی و انتظامی تنازع میں سامنے آنا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے لیے ایک سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر فوری شفاف تحقیقات اور ملزمان کو قانون کے کٹھہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وقف املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی انتقام کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسعد محمود غیر قانونی قبضہ کے کسی بھی اقدام میں شامل نہیں ہیں اور ان کی کردار کشی کے لیے من گھڑت کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام تمام دستاویزی ثبوتوں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

خیرالمدارس ملتان کی زمین کا معاملہ اب عدالت اور اعلیٰ انتظامی حکام کی زیر نگرانی آ چکا ہے۔ شہریوں اور قانونی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے اور قبضہ مافیا کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔