اسلام آباد: آٹزم اور پارکنسنز کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے، جس نے ان دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق کو اجاگر کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق، آٹزم کے شکار افراد میں اعصابی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے پارکنسنز کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے اسباب اور علاج کے طریقوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ آٹزم کے شکار افراد میں دماغی کیمیائی تبدیلیاں اور اعصابی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے پارکنسنز کی علامات جلد ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان افراد کی زندگی کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ والدین اور نگہداشت کرنے والوں کو آٹزم کے شکار افراد کی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔ اس تحقیق کے نتائج نے آٹزم اور پارکنسنز کے درمیان تعلق کو مزید واضح کیا ہے اور اس بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔