اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں میں تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی آئل ریفائنریز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 31 اکتوبر 2026 کو متعارف کرائے گئے نئے پٹرول کی قیمتوں کے طریقہ کار کو واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ملکی پیداوار کنندگان پر 49.02 روپے فی لیٹر کا مالی بوجھ ڈال سکتی ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریفائنری کے منافع کا فرانزک آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر یہ نئی قیمتیں نافذ کی گئیں تو صارفین کو پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ریفائنریز کے نمائندوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ قیمتیں برقرار رہیں تو یہ نہ صرف ملکی معیشت پر منفی اثر ڈالیں گی بلکہ صارفین کے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ریفائنریوں کی مالی حالت متاثر ہو سکتی ہے اور یہ ملکی توانائی کی خود کفالت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس نئے فارمولے کے نفاذ کے بعد، ریفائنریز نے اپنی پیداوار میں کمی کا عندیہ دیا ہے، جس سے ملک میں پٹرول کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے پر غور کرے اور ریفائنریز کے خدشات کو سنجیدگی سے لے۔