لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: ایچ ای سی کا حکم معطل

اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ایچ ای سی کے حکم کو معطل کر دیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے عملے کے معاملات شامل ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ ایک نجی یونیورسٹی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران سنایا، جس میں ایچ ای سی کے اختیارات پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

جسٹس جواد حسن نے یہ عارضی حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی کے پاس اس بات کا قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ چارٹرڈ یونیورسٹیوں کے فیکلٹی ممبران اور عملے کے ملازمت اور خدمات کے معاملات کو کنٹرول کرے۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب یونیورسٹی نے ایچ ای سی کے فیصلے کو چیلنج کیا، جس نے اس کے عملے کے معاملات میں مداخلت کی تھی۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ ای سی کو صرف تعلیمی معیار کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے، جبکہ ملازمت کے معاملات یونیورسٹیوں کی خود مختاری کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس فیصلے نے تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں بہت سے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ ایچ ای سی کو اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے۔

یہ فیصلہ نہ صرف اس نجی یونیورسٹی کے لیے اہم ہے بلکہ دیگر چارٹرڈ یونیورسٹیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، ایچ ای سی کو اپنے قوانین اور اختیارات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ تعلیمی اداروں کی خود مختاری کا احترام کر سکے۔