اسلام آباد: پاکستان کا اسمارٹ فون مالیاتی منصوبہ ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں اسمارٹ فون کی ملکیت میں اضافہ کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ منصوبہ ملک کے چار بڑے ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کیا گیا ہے، جن میں جاز، پی ٹی سی ایل/یو فون، ٹیلی نار، اور زونگ شامل ہیں۔
یہ ٹیلی کام کمپنیاں 7 مئی 2026 کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ایک مشترکہ خط ارسال کر چکی ہیں، جس میں انہوں نے اس مالیاتی منصوبے کے لیے ایک حتمی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عوام کو آسان اقساط پر اسمارٹ فون فراہم کرنا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں۔
تاہم، اس منصوبے کو ریگولیٹری اور کریڈٹ کی جانچ کے مسائل کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام عوامی سطح پر اسمارٹ فون کی ملکیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام اس کی منظوری جلد از جلد دیں۔
اس کے علاوہ، ٹیلی کام کمپنیوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ایک مضبوط اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہے۔ اگر یہ چیلنجز حل نہ ہوئے تو اسمارٹ فون کی ملکیت میں اضافہ ممکن نہیں ہو سکے گا، جو کہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔