اسلام آباد: جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید فوٹونک چپ تیار کر لی ہے جو روشنی میں چھپی ہوئی نادیدہ اشیاء اور تفصیلات کو واضح طور پر دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ آلہ انسانی ناخن کے برابر ہے اور مخلوط روشنی کو الگ الگ اور شفاف شعاعوں میں تقسیم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو گیا ہے۔
سائنسی جریدے نیچر فوٹونکس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ، یہ نیا آلہ بصری سائنس کی دنیا میں طویل عرصے سے درپیش ایک بنیادی مسئلے کو حل کرتا ہے۔ ماضی میں سائنسدانوں نے نظریاتی طور پر یہ تجویز پیش کی تھی کہ مخلوط روشنی کی لہروں کو بغیر کسی نقصان کے الگ کیا جا سکتا ہے ، تاہم تجربی طور پر ایسا کرنا دہائیوں سے ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔
اس اہم ایجاد کے ذریعے مائیکروسکوپ ، کیمروں اور خلائی دوربینوں کی تصویری صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ممکن ہو جائے گا۔ طبی شعبے میں جہاں خلیات اور باریک انسجام کی مائیکروسکوپک امیجنگ انتہائی اہم ہوتی ہے ، وہاں اس ٹیکنالوجی کا استعمال تشخیصی عمل کو تیز اور زیادہ درست بنا دے گا۔ اسی طرح دور دراز کی کہکشاؤں اور ستاروں کا مشاہدہ کرنے والی خلائی دوربینیں بھی اس کی مدد سے زیادہ واضح نتائج فراہم کر سکیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹینفورڈ کی تیار کردہ جدید فوٹونک چپ نورانی لہروں اور پراگندہ روشنی کے ذرات کو سنبھالنے میں اپنی مثال آپ ہے۔ جب روشنی کسی کثیف یا پیچیدہ مادے سے گزرتی ہے تو اس کی لہریں آپس میں گتھم گتھا ہو جاتی ہیں ، جس کی وجہ سے روایتی سینسرز صاف تصویر بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ چپ روشنی کی انہی الگ الگ لہروں کو منتخب کر کے ان کو واضح ترین شکل میں تبدیل کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس پیش رفت کو ہولوگرافی ، خودکار گاڑیوں کے لائڈار (LiDAR) سسٹمز اور کوانٹم کمپیوٹنگ کی سمت میں بھی ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے فزکس دان اس بات پر تحقیق کر رہے تھے کہ روشنی کی لہروں کو کس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے کنٹرول کیا جائے اور اب اس عمل کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔
جدید دور کی تصویر کشی اور مواصلاتی نظام میں روشنی پر مبنی اس نظام کے اطلاق سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ ڈیٹا کی منتقلی کی رفتار میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جدید فوٹونک چپ آنے والے سالوں میں عام استعمال کے اسمارٹ فونز اور سیکیورٹی کیمروں کا حصہ بھی بن سکتی ہے جس سے ہماری روزمرہ زندگی کی تصویر کشی بالکل بدل جائے گی۔
اس تحقیق کے سربراہ ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چپ کے ڈیزائن کو انتہائی سادہ لیکن موثر رکھا گیا ہے تاکہ اسے تجارتی پیمانے پر آسانی سے تیار کیا جا سکے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کے ماہرین اس پیش رفت کو آئندہ کی آپٹیکل کمپیوٹنگ کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
اختتامی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ روشنی کے ذریعے نادیدہ چیزوں کو دیکھنے کی یہ صلاحیت نہ صرف سائنسی تحقیقات میں انقلاب لائے گی بلکہ آنے والے وقت میں صحت ، مواصلات ، اور خلائی علوم کے شعبوں میں حیران کن نتائج حاصل کرنے کا ذریعہ بنے گی۔