اسلام آباد: کاکروچ جنتا پارٹی کے بڑے احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر بھارتی حکومت نے آف لائن میسجنگ ایپ ‘بٹ چیٹ’ کو ایپل اور گوگل پلے اسٹورز سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ اکتوبر 2026 میں ہونے والے مظاہروں کی شدت کے باعث کیا گیا ہے، جس کی اطلاع ایپ کے خالق اور ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی نے دی۔
بھارتی حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا۔ اس پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان مظاہروں کی تیاری کے دوران، بٹ چیٹ ایپ کو ہٹانے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کی آواز کو دبانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔
جیک ڈورسی نے اس پابندی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اقدام اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بٹ چیٹ ایپ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں، اور اس کی بندش سے جمہوری عمل متاثر ہوگا۔
بھارتی حکومت کی اس کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کا سامنا کیا ہے۔ کئی انسانی حقوق کے اداروں نے اس پابندی کو غیر جمہوری قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں نے بھی اس پابندی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ صرف بھارت تک محدود نہیں رہے گا۔