اسلام آباد: 2 ڈی بار کوڈ نفاذ کے حوالے سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کا ڈیٹا جمع نہ کرانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ اقدام صحت کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ 2 ڈی بار کوڈ کے نفاذ سے نہ صرف جعلی ادویات کی روک تھام ہوگی بلکہ مریضوں کو بھی معیاری ادویات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ادویات ساز ادارے اس نظام کی پاسداری کریں تاکہ عوام کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر دوا کی شناخت اور اس کی اصل حیثیت کو جانچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت ادویات کی ہر کھیپ کا ریکارڈ رکھا جائے گا، جس سے نہ صرف صحت کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی دوا ساز ادارہ اس نظام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مصطفیٰ کمال نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی اس نظام کی کامیابی کے لیے تعاون کریں اور جعلی ادویات کے خلاف آواز اٹھائیں۔