اسلام آباد: ایران پر امریکی حملے کے خدشات نے خلیجی ممالک کو فکر مند کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، خلیجی ریاستیں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایران کی جوہری سرگرمیاں اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی اقدام کے اثرات سے آگاہ ہیں۔ ان ممالک کی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کی حکومتیں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ان کے اپنے مفادات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ایران نے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور اس کے حامی ملیشیا نے خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ خلیجی ممالک کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
خلیجی ممالک کی یہ تشویش اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جو کہ بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔