تیل کی قیمتیں

تیل کی قیمتیں گر گئیں، امریکہ اور ایران ممکنہ امن معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں

اسلام آباد: تیل کی قیمتیں گر گئیں، جب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیشرفت نے ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں بڑھا دیں۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت جنوری کی ترسیل کے لیے 3.94% کمی کے ساتھ 108.96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت دسمبر کی ترسیل کے لیے 4.17% کمی کے ساتھ 99.78 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

یہ کمی اس وقت آئی جب امریکی اور ایرانی حکام نے اشارہ دیا کہ سفارتی کوششیں جاری تنازعے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں اور مزید فوجی کشیدگی کے خطرات کو کم کر سکتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام بھی بحال ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے تیل کی برآمدات میں اضافہ اور امریکی پابندیوں میں نرمی کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی میں بہتری آ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، عالمی سطح پر تیل کی طلب میں بھی اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر جب مختلف ممالک کی معیشتیں بحالی کی طرف گامزن ہیں۔ اگرچہ یہ صورتحال ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی اقتصادیات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہو سکتی ہے۔