اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ: وکیل کو کالے شیشے والی عینک پہننے سے روکا گیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جہاں وکیل کو کالے شیشے والی عینک پہننے سے روکا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وکیل نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے کیس کی سماعت کے دوران عینک لگائی۔

تفصیلات کے مطابق، ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران جج نے وکیل کی عینک پر اعتراض کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ عینک اتار دیں۔ جج نے کہا کہ عدالت میں عینک پہننے کی اجازت نہیں ہے، خاص طور پر جب وہ کسی بھی طرح سے سماعت میں مداخلت کر سکتی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف وکیل کے لیے حیران کن تھا بلکہ عدالت میں موجود دیگر افراد کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بنا۔ وکیل نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ عینک کو اپنی ذاتی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

اس واقعے نے عدالت کے ماحول میں ایک نیا موڑ پیدا کیا اور اس پر مختلف تبصرے بھی کیے گئے۔ قانونی ماہرین نے اس واقعے کو عدالت کے قواعد و ضوابط کے تناظر میں دیکھا اور اس بات پر زور دیا کہ عدالت میں پیش ہونے والے وکلاء کو مناسب لباس اور طرز عمل کا خیال رکھنا چاہیے۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتوں میں پیش ہونے والے وکلاء کو نہ صرف قانونی مہارت بلکہ عدالت کے آداب کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔