اسلام آباد: انسانی مظلومیت کا موضوع ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہا ہے۔ ہم سب اپنی ذات میں مظلوم ہوا کرتے ہیں، اور اپنا قصور ہمیں کبھی بھی نظر نہیں آتا۔ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے، تو ہم خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے ایک جسٹیفیکیشن تلاش کرتے ہیں۔
ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرا بندہ ظالم ہوتا ہے، اور ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔ انسانی دماغ کی یہ کرامات ہیں کہ ہم اپنے آپ کو ہمیشہ حق پر سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بھی کوئی ہمیں ظالم سمجھتا ہے۔ اس کے پاس بھی اپنی دلیلیں ہوتی ہیں، اور جب کوئی اس کی بات سنتا ہے تو ہمارا سارا فلسفہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔
ایسی صورت میں، دونوں طرف کے لوگوں کے درمیان بات چیت کا کوئی باعزت راستہ نہیں رہتا۔ جب دونوں خود کو مظلوم سمجھتے ہیں، تو آگے بڑھنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے؟ زندگی کی سڑک پر اگلا قدم کیسے اٹھایا جائے؟ یہ سوالات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا واقعی ہم نے ایک دوسرے کی بات سننے کی کوشش کی ہے؟
یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں اور دوسروں کی باتوں کو بھی سنیں۔ اگر ہم صرف اپنی مظلومیت پر اصرار کرتے رہیں گے تو کبھی بھی کسی حل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔