اسلام آباد: نادرا مشتبہ شہری قرار دینے کی وجوہات پر وضاحت کی گئی ہے۔ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ریکارڈ میں کسی شہری کا ڈیٹا موجود ہوتا ہے، مگر بعض اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں مشتبہ کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ نادرا کے ریکارڈ میں موجود معلومات کی بنیاد پر شہریوں کی شناخت کی جاتی ہے، مگر بعض اوقات یہ معلومات مکمل نہیں ہوتیں یا ان میں کچھ غلطیاں موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر کسی شہری کے خلاف کوئی قانونی کارروائی جاری ہو یا ان کا نام کسی مشتبہ فہرست میں شامل ہو تو انہیں مشتبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
سید شباہت علی نے کہا کہ نادرا کی کوشش ہے کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ان کی شناخت کی درستگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شہریوں کو مشتبہ قرار دینے کے عمل میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب شہریوں کی جانب سے نادرا کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ نادرا کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، شہریوں کو مشتبہ قرار دینے کے عمل میں قانونی اور انتظامی دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔