اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے نئی دہلی میں مظاہرے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انڈین حکومت نے دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی ہے اور فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں تعینات کر دی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے مخالفین نے اس معاملے پر ایک بڑی ریلی نکالنے کا ارادہ کیا ہے۔
اتوار کو کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والی اس ریلی میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد کے دہلی کی سڑکوں پر نکلنے کی توقع ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے وسطی علاقوں سے احتجاج کے لیے مختص جگہ رام لیلا میدان تک ’دہلی چلو‘ مارچ میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ مظاہرہ اس وقت ہو رہا ہے جب اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف شدید تنقید کر رہی ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، طلبہ تنظیموں اور دیگر سماجی گروپوں نے بھی اس مظاہرے میں شرکت کا اعلان کیا ہے، جس سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے سخت اقدامات کے باوجود، مظاہرین کے عزم میں کمی نہیں آئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ جمہوریت کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور وہ اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔