تل ابیب: عرب جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت کا مطالبہ اسرائیل میں انتخابات کے بعد زور پکڑ گیا ہے۔ تل ابیب میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ عرب جماعتوں کو حکومت میں شامل کریں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
<pاحتجاج کے دوران، مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے حق میں نعرے درج تھے۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے نتائج نے سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ عرب جماعتوں کی شمولیت سے حکومت کی تشکیل میں مدد ملے گی اور یہ ملک کی مختلف اقلیتوں کی نمائندگی کو بھی یقینی بنائے گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، مظاہرین نے گادی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکومت تشکیل دیں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔ مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ عرب جماعتوں کی شمولیت سے حکومت کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور عوامی مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
اس احتجاج نے اسرائیلی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں عرب جماعتوں کی اہمیت اور ان کے کردار پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ کچھ سیاسی رہنما اس اتحاد کے خلاف ہیں، لیکن عوامی حمایت کے پیش نظر یہ مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔