لاہور: نورین نیازی کی جیل منتقلی نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ نورین نیازی کو طبی علاج کے بعد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کی صحت میں بہتری کے بعد انہیں دوبارہ جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، نورین نیازی کو پی آئی سی میں طبی سہولیات فراہم کی گئی تھیں، جہاں ان کا علاج جاری رہا۔ ان کی جیل منتقلی کے فیصلے نے پی ٹی آئی کے حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
نورین نیازی کی جیل منتقلی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے، جبکہ قانونی ماہرین بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ پاکستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات آئندہ دنوں میں واضح ہوں گے۔ نورین نیازی کی صحت اور ان کی قانونی صورتحال پر نظر رکھی جائے گی، جبکہ ان کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔