اسلام آباد: لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو 3 سال بعد بری کر دیا گیا ہے۔ جسٹس محمد امجد رفیق نے اس معاملے کی سماعت کے دوران ملزم کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔
<pیہ فیصلہ اس وقت آیا جب ملزم نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور اس کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ وہ اس جرم میں ملوث نہیں تھا۔ عدالت نے ملزم کی درخواست پر غور کرتے ہوئے شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا اور فیصلہ سنایا کہ ملزم کو بری کیا جائے۔
<pعدالت کے اس فیصلے نے ملزم اور اس کے خاندان کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف کی فتح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ آزاد اور انصاف پر یقین رکھتی ہے۔
<pیہ واقعہ لاہور میں پیش آیا تھا جہاں ملزم کو پہلے ہی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اب اس فیصلے کے بعد ملزم کو جیل سے رہا کیا جائے گا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ مل سکے گا۔ یہ فیصلہ قانونی نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا اس طرح کے معاملات میں جلد انصاف فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔