اسلام آباد: را ایجنٹ محمد سلیم کی عمر قید کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ نے سنایا ہے۔ عدالت نے ریاست کے خلاف سازش کے الزامات کو ثابت نہ ہونے پر ملزم کی سزا کو کالعدم قرار دیا۔ یہ فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے جو قانونی نظام کی شفافیت کی عکاسی کرتا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد ناکافی ہیں اور ان میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جو ملزم کی مجرمانہ سرگرمیوں کو ثابت کر سکے۔ محمد سلیم پر الزام تھا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے لیے کام کر رہا تھا، لیکن عدالت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
یہ فیصلہ ملک میں قانونی نظام کی مضبوطی کی علامت ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتیں کسی بھی قسم کی سیاسی دباؤ کے بغیر انصاف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس فیصلے کے بعد محمد سلیم کی رہائی کا امکان بڑھ گیا ہے، جو کہ ایک طویل عرصے سے جیل میں تھے۔
عدالت کے اس فیصلے نے نہ صرف محمد سلیم کی زندگی میں ایک نیا باب کھولا ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہر ملزم کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اس کیس نے ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔