اسلام آباد: ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ بات ایرانی رکنِ پارلیمنٹ سید محمود نباوین نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہے۔
سید محمود نباوین نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ہیں، لیکن اگر ایران کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو اس معاہدے سے علیحدگی ایک آپشن ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
ایران کی حکومت نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اور دباؤ نے ایران کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اقدامات پر غور کرے۔ نباوین نے کہا کہ اگر ایران کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ اس میں ہچکچاہٹ نہیں کرے گا۔
ایران کے اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر بین الاقوامی سطح پر بھی بحث جاری ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، چاہے اس کے لیے بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدگی ہی کیوں نہ اختیار کرنی پڑے۔