اسلام آباد: خواتین کے خلاف تعصب ایک سنگین مسئلہ ہے جو معاشرتی رویوں میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ حال ہی میں بالی وڈ کی فلم ‘انگلش ونگلش’ نے اس موضوع کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے، جس میں خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی عکاسی کی گئی ہے۔
فلم کی کہانی کار گوری شندے نے اس حساس موضوع کو انگلش زبان کی کمزوری کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا ہے، جو کہ خواتین کی حیثیت کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ مسوجنی یا جنسی تعصب دراصل پدر شاہی سوچ کی ایک شاخ ہے، جہاں عورت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جینڈر اور انسانی حقوق کی ماہر نازش بروہی کا کہنا ہے کہ پدر شاہی نظام معاشرتی دائرے قائم کرتا ہے، جو کہ خواتین کے حقوق کی پامالی کا باعث بنتا ہے۔ اس نظام کے تحت، عورت کو مختلف مواقع پر کمزور سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ سڑک پر گاڑی چلانے کی بات ہو یا کسی محفل میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی۔
یہ رویے نہ صرف خواتین کی خود اعتمادی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ معاشرتی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان تعصبات کا مقابلہ کریں اور خواتین کو ان کے حقوق دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔