اسلام آباد: پاکستان میں غربت کی شرح 2025ء تک 29 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، امیر اور غریب کے درمیان معاشی فرق میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
<pیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2019ء کے بعد سے غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں اقتصادی عدم استحکام، مہنگائی اور بے روزگاری شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کے باوجود، عوامی مشکلات میں کمی نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔
<pعالمی بینک کے مطابق، پاکستان میں غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کا اثر خاص طور پر دیہی علاقوں میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں بنیادی سہولیات کی کمی اور تعلیم کی عدم دستیابی نے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، شہری علاقوں میں بھی مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے غریب طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔
<pحکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر موثر اقدامات کرے تاکہ غربت کی اس بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جا سکے اور امیر اور غریب کے درمیان معاشی فرق کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں مرتب کرے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ملک کی معیشت مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔