حیدرآباد: بھارت کی آنکھوں کی ادویات خطرناک قرار دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں آئی ڈراپس کی بوتلیں مارکیٹ سے واپس منگوالی گئی ہیں۔ معروف دوا ساز کمپنی سن فارماسیوٹیکل انڈسٹریز کے آسام میں واقع پلانٹ سے تیار کردہ یہ ادویات صحت کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔
بھارتی ادویات کے ریگولیٹرز نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ادویات کا استعمال فوری طور پر بند کر دیں۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب کچھ صارفین نے ان ادویات کے استعمال کے بعد بینائی میں مسائل کی شکایت کی۔
سن فارماسیوٹیکل انڈسٹریز نے اس معاملے پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال کی مکمل تحقیقات کریں گے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔
یہ واقعہ بھارت میں دوا سازی کے شعبے میں ایک بڑی تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں پہلے بھی کئی بار ادویات کی کوالٹی کنٹرول کے مسائل سامنے آ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور حکومت کو اس پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔