اسلام آباد: چیک سفارتکار کی ہلاکت کا واقعہ یروشلم میں پیش آیا، جہاں ایک منی بس نے چیک سفارتخانے کی برانچ آفس کی سربراہ 30 سالہ کلارا شنائیڈرووا کو کچل دیا۔ یہ واقعہ ایک ماہ قبل چیک جمہوریہ کی جانب سے اسرائیل میں سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پیش آیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، کلارا شنائیڈرووا ایک اہم تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں جب یہ حادثہ پیش آیا۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب وہ سڑک عبور کر رہی تھیں، اور منی بس نے انہیں ٹکر مار دی۔ حادثے کے بعد فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
چیک جمہوریہ کی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کلارا شنائیڈرووا کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت اور محنتی سفارتکار تھیں، جنہوں نے اپنے ملک کی نمائندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنا ہے، اور مختلف ممالک نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ چیک جمہوریہ کی حکومت نے اس حادثے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔