اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں صحت اور تعلیم کو نظر انداز کرنے کا انکشاف وفاقی وزیر امیر مقام نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران، صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبے کو عملی طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ صوبے کی حکومت نے عوامی صحت اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی، جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان شعبوں کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
امیر مقام نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری نہیں لائی گئی تو اس کے منفی اثرات پورے صوبے پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے۔